بنگلورو24؍ستمبر(ایس او نیوز) ریاست کے شمالی علاقوں میں زور دار بارش کے سبب صورتحال کافی ابتر ہوچکی ہے۔ آندھرا اور اڑیسہ کے ساحل پر طوفان کے نتیجہ میں حیدرآباد۔کرناٹک میں آنے والے کلبرگی اور بیدرمیں سیلاب کی صورتحال بنی ہوئی ہے ، یہاں پھنسے ہوئے کسانوں اور عوام کو بچانے راحت کاری مہم شروع کردی گئی ہے۔پچھلے دو دنوں سے شمالی کرناٹک میں موسلادھار بارش کے نتیجہ میں گلبرگہ اور بیدر کی تقریباً تمام ندیاں لبریز ہوچکی ہیں۔ان میں سے بعض ندیوں میں طغیانی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں ۔ ندی کے کناروں پر بسے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔ کلبرگی ضلع کے چیتا پور اور چنچولی تعلقہ جات میں کاگینہ ندی میں طغیانی سے کئی دیہات زیر آب آچکے ہیں۔ فائر فورس اور پولیس کی مدد سے یہاں کے لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا جارہا ہے۔ چیتا پور تعلقہ کے ڈنڈوتی اور سیڑم تعلقہ کے ملکھیڑا میں دو اہم پل زیر آب آچکے ہیں، جس کی وجہ سے یہ حصے ریاست کے باقی حصوں سے کٹے ہوئے ہیں۔ بتایاجاتاہے کہ زور دار بارش کے نتیجہ میں 380 سے زائد مکانات منہدم ہوگئے۔رائچور میں چار مکانات کے گرنے کی اطلاعات ملی ہیں۔زور دار بارش کے سبب آج حیدرآباد۔کرناٹک کے تمام اضلاع میں تعلیمی اداروں کو چھٹی کا اعلان کردیاگیا۔ گلبرگہ کے ڈپٹی کمشنر اجول کمار گھوش نے بتایاکہ صورتحال کو دیکھ کر یہ طے کیاجائے گا کہ تعلیمی اداروں کو چھٹی برقرار رکھی جائے یا نہیں ۔مسلسل بارش کی وجہ سے یہاں کے آبی ذخائر میں پانی کی سطح خطرہ کے نشان سے اوپر پہنچ چکی ہے۔ بیدر میں بھی سیلاب کی صورتحال برقرار ہے، یہاں کے دس سے زائد اہم پل زیر آب آچکے ہیں ۔1152 مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ ضلع بھر میں پچھلے دو دنوں سے 18.5 سنٹی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ محکمۂ موسمیات نے بتایا کہ 28 ستمبر تک گلبرگہ ، بیدر اور حیدرآباد کرناٹک کے دیگر اضلاع میں موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری رہے گا۔ سیلاب کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے محکمۂ آبپاشی نے راجپورہ بیاریج کے ذریعہ یہاں کے پانی کو دریائے کرشنا کی طرف بہادیا ہے۔